10 مارچ 2021 - 13:39
آیت اللہ معتوق: جناب ابوطالب کے کلام اور اشعار میں ایمان اور بصیرت واضح نظر آتی ہے

آیت اللہ معتوق نے مزید کہا: جناب ابوطالب بچپنے سے ہی پیغمبر اکرم کی معرفت رکھتے تھے اسی وجہ سے ان کی حفاظت میں خاص اہتمام کرتے تھے اور اپنی زندگی کے آخر دن تک ان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے، آپ کے کلام اور اشعار میں ایمان اور بصیرت کی جھلکیاں واضح ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب جو ۹ مارچ ۲۰۲۱ بروز منگل کو قم المقدسہ میں منعقد ہوئی اس میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے کویتی رکن آیت اللہ شیخ حسین معتوق نے جناب ابوطالب (ع) کے حوالے سے شبہات پیدا کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا: بنی امیہ کے دور میں مولا علی علیہ السلام پر پچاس سال تک ممبروں سے سب و شتم کیا جاتا رہا یہاں تک کہ عمر بن عبد العزیز نے ممبروں سے اسے بند کروایا لیکن یہ کلچر بنی عباس کے دور تک جاری رہا۔
انہوں نے کہا: ابواسحاق جوزجانی کہ جو احمد بن حنبل کا استاد تھا مولا علی(ع) کو کافر سمجھتا تھا (معاذ اللہ)، وہ اہل سنت کے نزدیک بزرگ علما میں شمار ہوتا تھا، عمر بن سعد کہ جو امام حسین علیہ السلام کا قاتل تھا حدیث میں ثقہ علماء میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے رکن نے مزید کہا: اگر حدیث کے راویوں کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے "غرانیق" جیسی جعلی حدیثوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جن میں خود رسول خدا کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے لہذا ایسے ماحول میں اگر جناب ابوطالب کو دشمن نے نشانہ بنایا تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
آیت اللہ معتوق نے اسلام کے تحفظ میں جناب ابوطالب کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا: حضرت ابوطالب نے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کی اور شعب ابی طالب میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہے، ابوطالب قریش کے سردار تھے لیکن رسول خدا (ص) پر اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار تھے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب بچپنے سے ہی پیغمبر اکرم کی معرفت رکھتے تھے اسی وجہ سے ان کی حفاظت میں خاص اہتمام کرتے تھے اور اپنی زندگی کے آخر دن تک ان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے، آپ کے کلام اور اشعار میں ایمان اور بصیرت کی جھلکیاں واضح ہیں۔

...........

242